غزل کے لغوی معنی عورتوں سے یا عورتوں کے بارے میں باتیں کرنے کے ہیں۔ اپنی اصل کے اعتبار سے غزل ایک زخمی غزال کی آہ، تیرِ نیم کش کی کسک، یا محبوب سے سرگوشی کا نام ہے۔ یہ خالصتاً عشقیہ اور غنائی شاعری ہے، لیکن غزل کا عشق کسی ایک دائرے میں قید نہیں۔ یہ عشق حقیقی (خدا سے) بھی ہو سکتا ہے اور مجازی (انسان سے) بھی؛ یہ کسی عقیدے، مسلک یا نظریے سے بھی ہو سکتا ہے۔ غزل میں اصل مسئلہ نظارے کا نہیں بلکہ 'نظر' کا ہے۔
غزل میں محبوب کے حسن کی محض ظاہری مصوری یا سراپا نگاری بذاتِ خود اتنی اہم نہیں، جتنا کہ عاشق کے جذبے کی گرمی، اس کا سوز و گداز، اور کیفیات کی لطافت اہم ہے۔ اردو غزل میں 'معاملہ بندی' (عاشق اور محبوب کے درمیان پیش آنے والے جنسی یا رومانی معاملات کا بیان) کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ جرأت اور مومن خان مومن جیسے شعراء نے معاملہ بندی میں نام پیدا کیا، لیکن غزل کا اعلیٰ معیار اس بات کا متقاضی ہے کہ معاملات کا بیان کھلا کھلا اور بازاری نہ ہو۔
میر تقی میر، جنہیں خدائے سخن کہا جاتا ہے، نے جرأت کی کھلی معاملہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا: 'میاں! تم شعر کہنا کیا جانو۔ اپنی چوما چاٹی کہہ لیا کرو۔' غزل کا مزاج اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جنس کو ایک بھڑکتے ہوئے شعلے کی طرح پیش کیا جائے؛ غزل میں جنس کی محض ایک 'آنچ' کافی ہوتی ہے، اور وہ بھی رمز و ایما (اشاروں اور کنایوں) کے دبیز پردوں میں لپٹی ہوئی۔
غالب کا یہ شعر غزل کے اسی اعلیٰ معیار اور رمزیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
اسد بند قبائے یار ہے فردوس کا غنچہ
اگر وا ہو تو دکھلا دوں کہ اک عالم گلستاں ہے
اس کے برعکس، وہ اشعار جن میں محبوب کے حسن یا جسمانی خدوخال کا براہ راست اور بے باک تذکرہ ہو، وہ عوامی سطح پر مشہور تو ہو سکتے ہیں، لیکن غزل کے تنقیدی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ مثال کے طور پر یہ شعر:
آنکھیں دکھلاتے ہو، جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
یہ شعر غزل کی لطافت اور شائستگی کے منافی ہے۔ غزل کا کنایاتی در و بست، اس کا ابہام اور پہلو داری ہی اس کی اصل خوبیاں ہیں۔ غزل قاری کو سب کچھ بتا نہیں دیتی، بلکہ اسے محسوس کرنے اور خود معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کی کہانی ہر سننے والے کو اپنی ہی داستان معلوم ہوتی ہے۔
