جب ہم مرزا غالب کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے کلام نے ذہنوں کو اپنی پیچیدہ خیالی اور بلندیٔ اظہار کی وجہ سے بہت بعد میں متاثر کیا۔ شروع شروع میں جس چیز نے لوگوں کو غالب کی طرف کھینچا، وہ ان کے خیال کی ندرت اور ان کے لہجے کا 'بانکپن' تھا۔ اگرچہ 'بانکپن' کوئی باقاعدہ تنقیدی اصطلاح نہیں ہے، لیکن اس سے مراد وہ مخصوص لہجہ ہے جس میں سنجیدہ مضامین کے غیر متوقع پہلوؤں کو اس طرح بیان کیا جائے کہ مضمون کی سنجیدگی اور وقعت تو برقرار رہے، لیکن انداز ایسا ہو کہ بظاہر اس کی گمبھیرتا کم معلوم ہو۔
اس اسلوب میں طنز (Irony) کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ غالب نے شاید اشعار میں طنز کا تناؤ قصداً نہ پیدا کیا ہو، لیکن ان کے یہاں بانکپن میں جو زائد حسن نظر آتا ہے، وہ اسی طنز کی دین ہے۔ اس کی ایک بہترین مثال وہ شعر ہے جو استاد ذوق نے محمد حسین آزاد کو غالب کے اچھے اشعار کے طور پر سنایا تھا:
دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
میرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
اس شعر پر غور کریں۔ 'دریائے معاصی' میں غوطہ لگانا ایک انتہائی سنجیدہ، گمبھیر اور مذہبی نوعیت کا موضوع ہے۔ لیکن غالب اسے 'سرِ دامن' کے مقابلے میں 'تنک آب' بتا کر بظاہر اس کی وقعت کو کم کر دیتے ہیں۔ تاہم، اس طنزیہ اور غیر متوقع موازنے کے باوجود موضوع کی گمبھیرتا اور انسان کے گناہوں کی وسعت کا احساس پوری طرح برقرار رہتا ہے۔
غالب کے معاصرین کو ان کے یہاں روایتی مضامین سے نئی چھیڑ چھاڑ کے یہ پہلو بہت پسند آئے تھے۔ اس دور میں جب لوگ ان کے نازک اور مبہم اشعار کو عام طور پر ٹال جایا کرتے تھے، اور 'ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے' جیسے اشعار پر بھی اہمال کے اعتراضات وارد کرتے تھے، تب یہی بانکپن اور طنزیہ مسکراہٹ تھی جس نے غالب کو ایک منفرد پہچان دی۔ ان کا یہ لہجہ، جس میں خفیف سا تمسخر، احساسِ برتری کے ساتھ دوستانہ یگانگت، اور کبھی کبھی شدید واقعیت شامل ہوتی ہے، اردو غزل میں ان کی وہ انمٹ چھاپ ہے جس کی نقل کوئی دوسرا شاعر نہ کر سکا۔
