اردو زبان کے ارتقا کی کہانی ہندوستانی زبانوں کی تاریخ میں ایک منفرد اور انتہائی دلچسپ مقام رکھتی ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے بازاروں کی چہل پہل، درباروں کی شان و شوکت اور خانقاہوں کے پرسکون ماحول میں پرورش پائی۔ لیکن اس کا ابتدائی سفر اتنا آسان نہ تھا۔ ایک طویل عرصے تک اردو کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کی وہ حقدار تھی، اور اس کی سب سے بڑی وجہ فارسی زبان کا ہمہ گیر غلبہ تھا۔ شاہجہاں آباد (دہلی) کے عوام اور خواص اردو بولتے تو تھے، اور اسے 'اردوئے معلیٰ' کا نام بھی دے چکے تھے، لیکن جب بات علمی اور ادبی اظہار کی آتی تو لوگ اردو میں شعر کہنے سے کتراتے تھے۔
گوپی چند نارنگ اس صورتحال کی عکاسی ایک نہایت خوبصورت اور بلیغ ضرب المثل سے کرتے ہیں کہ 'بڑ یا پیپل کے پیڑ کے نیچے گھاس بھی نہیں اگتی'۔ فارسی اس وقت ایک ایسے ہی دیو ہیکل پیپل کے درخت کی مانند تھی جس کی گہری چھاؤں اور وسیع شاخوں نے اردو جیسی نوزائیدہ زبان کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ زبان عوام کے دلوں اور زبانوں پر تو تیار تھی، لیکن اسے ایک ایسے نفسیاتی سہارے کی ضرورت تھی جو اس کے اندر چھپے ہوئے احساسِ کمتری کو ختم کر سکے۔
یہ تاریخی اور نفسیاتی سہارا ولی دکنی کے دیوان نے فراہم کیا۔ دکن کی سازگار فضاؤں میں پروان چڑھنے والی ولی کی شاعری جب دہلی پہنچی تو اس نے ایک تہلکہ مچا دیا۔ ولی کے اشعار کی مقبولیت اور ان کی زبان کی شیرینی نے دہلی کے اہل قلم کو یہ احساس دلایا کہ ان کی اپنی زبان (ریختہ) میں بھی اعلیٰ پائے کی شاعری ممکن ہے۔ یہ ولی کا ہی فیض تھا کہ لوگ فارسی کی تقلید چھوڑ کر اپنی مادری زبان اردو کی طرف متوجہ ہوئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زبان کے اس ابتدائی دور میں نثر اور نظم کے ارتقا کا عام اصول الٹ گیا۔ عموماً کسی بھی زبان میں نثر پہلے ترقی کرتی ہے اور شاعری بعد میں، لیکن اردو کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ فضل علی فضلی کی 'کربل کتھا' اس کی بہترین مثال ہے۔ فضلی نے جب یہ کتاب لکھی تو اس کا مقصد ان عورتوں اور کم پڑھے لکھے لوگوں کو کربلا کا واقعہ سمجھانا تھا جو فارسی نہیں سمجھتے تھے۔ فضلی اپنے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’سبب تالیف اس مجموعۂ محمودہ کا اور باعث تصنیف اس نسخۂ مسعودہ کا کہ ہر حرف اس کا ایک گلدستہ بوستان ولایت کا ہے۔۔۔ واقعہ شہادت شاہ کربلا کا اس میں لکھا ہے، سوناتا تھا لیکن معانی اوس کے نساء و عورات کی سمجھ میں نہ آتے تھے۔ اکثر اوقات بعد کتاب خوانی کے سب یہ مذکور کرتے کہ صد حیف و صد ہزار افسوس جو ہم کم نصیب عبارت فارسی نہیں سمجھتے اور رونے کے ثواب سے بے نصیب رہتے۔‘‘
اس نثر کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ اس میں ابتدائی دور کی معصومیت موجود ہے، لیکن جملے اب بھی فارسی تراکیب اور سجع و قافیہ کے شکنجے میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس، اس دور کی شاعری کی زبان کافی حد تک منجھ چکی تھی۔ گویا جب اردو کے اظہار کا بندھ ٹوٹا تو طبیعتوں کا رجحان شاعری کی طرف اس قدر شدید تھا کہ نثر کنارے کھڑی دیکھتی رہ گئی اور شاعری ارتقا کی منازل طے کرنے لگی۔
