اردو ادبی تنقید کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک یہ نظریہ پوری قوت کے ساتھ رائج رہا ہے کہ شاعری، بالخصوص 'سچی' شاعری، دراصل شاعر کی شخصیت اور اس کے داخلی تجربات کا براہِ راست اظہار ہوتی ہے۔ اس نظریے کے علمبرداروں نے داخلیت اور خارجیت کی ایسی تفریق قائم کی جس نے کلاسیکی ادب کے ایک بڑے حصے کو ثانوی درجے میں دھکیل دیا۔ نورالحسن ہاشمی جیسے نقادوں نے یہ اصول وضع کیا کہ جس شاعری میں شاعر کی 'داخلی شخصیت' کا سراغ نہ ملے، وہ خارجیت پر مبنی اور کم تر درجے کی تخلیق ہے۔ اس کڑے اور کسی حد تک غیر منطقی معیار کی زد میں زیادہ تر مثنویاں، مدحیہ قصائد اور غزل کا وہ بڑا حصہ آ گیا جس میں معاملاتِ دل یا تصوف کے بجائے دیگر مضامین بیان کیے گئے تھے۔
اس تنقیدی رویے نے شاعری کو ایک طرح کی خودنوشت سوانح حیات (Autobiography) فرض کر لیا۔ عندلیب شادانی جیسے بااثر نقادوں نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ اچھے شاعر اپنی غزل میں صرف وہی کچھ بیان کرتے ہیں جو ان کے ذاتی تجربے کا حصہ ہو۔ انہوں نے اصغر، جگر اور حسرت موہانی جیسے معاصرین کو محض اس لیے کم تر قرار دیا کہ ان کے بقول ان کی شاعری 'سچے واردات' پر مبنی نہیں تھی۔ شادانی صاحب کا استدلال اس حد تک میکانکی تھا کہ انہیں حسرت موہانی کے ان اشعار پر سخت اعتراض تھا جن میں موت یا عالمِ نزع کا ذکر تھا، کیونکہ حسرت تو اس وقت بقیدِ حیات اور تندرست تھے۔ وہ لکھتے ہیں: 'کوئی کس طرح تسلیم کر لے کہ ان کے اشعار میں جو واقعات مذکور ہیں، مثلاً مولانا کا قتل یا عالم نزع اور وفات وغیرہ، ان میں کوئی اصلیت ہے؟'
اس سوانحی تنقید کا ایک اور نقصان دہ پہلو یہ تھا کہ اس نے 'دہلی اسکول' اور 'لکھنؤ اسکول' کی مصنوعی اور گمراہ کن تفریق کو جنم دیا۔ نقادوں نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ لکھنؤ کی شاعری میں لباس، آرائشِ حسن اور جسمانیات کا ذکر ہے، اس لیے یہ 'خارجی' اور کم تر ہے۔ وہ یہ بنیادی نکتہ فراموش کر بیٹھے کہ اگر کوئی شاعر معشوق کے جسمانی حسن یا اپنے جنسی جذبے کا اظہار کر رہا ہے، تو وہ بھی تو اس کی شخصیت ہی کا ایک رخ ہے۔
شاعری کو محض آپ بیتی سمجھنے کا یہ اصول دراصل تخلیقی عمل کی وسعتوں کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ شاعر کا تخیل، اس کی مضمون آفرینی کی صلاحیت اور زبان و بیان پر اس کی گرفت کو نظر انداز کر کے محض اس کے 'سچے تجربات' کی کھوج میں لگ جانا، فنِ شاعری کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ غزل کی دنیا حقائق کی دنیا نہیں، بلکہ امکانات اور مضامین کی دنیا ہے، جہاں شاعر اپنے تخیل کی اڑان سے وہ کچھ بھی بیان کر سکتا ہے جو اس نے شاید کبھی ذاتی طور پر محسوس نہ کیا ہو، لیکن وہ انسانی تجربے کی آفاقیت کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔
