مرزا غالب کی زندگی کا ایک بڑا حصہ مالی مشکلات اور تنگدستی میں گزرا، بالخصوص 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد ان کی آمدنی نہایت قلیل رہ گئی تھی۔ لیکن ان تمام تر مصائب کے باوجود، غالب نے کبھی اپنی خودداری، حفظِ وضع اور خاندانی وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ وہ دلی کے امراء اور عمائدین سے ہمیشہ برابری کی سطح پر ملتے تھے۔ ان کا اصول تھا کہ وہ بازار میں کبھی پیدل نہیں نکلتے تھے، بلکہ ہمیشہ پالکی یا ہوادار سواری کا استعمال کرتے۔
ان کی وضع داری کا یہ عالم تھا کہ شہر کے جو معززین ان کے گھر نہیں آتے تھے، غالب بھی ان کے یہاں جانے سے گریز کرتے، اور جو ان کی کٹیا پر قدم رنجہ فرماتا، غالب اس کے یہاں جوابی ملاقات کے لیے ضرور جاتے۔ ایک مرتبہ دیوان فضل اللہ خاں اپنی سواری پر غالب کے مکان کے پاس سے بغیر ملے گزر گئے۔ غالب کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے فوراً ایک رقعہ لکھا جس میں نہایت شائستہ طنز کرتے ہوئے کہا کہ ' آج مجھ کو اس قدر ندامت ہوئی ہے کہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جاتا ہوں۔ اس سے زیادہ اور کیا نالائقی ہو سکتی ہے کہ آپ کبھی نہ کبھی تو اس طرف کو گزریں اور میں سلام کو حاضر نہ ہوں' دیوان جی یہ رقعہ پڑھ کر سخت شرمندہ ہوئے اور اسی وقت غالب سے ملنے آئے۔
غالب کی نجی زندگی میں ان کی مے نوشی کی عادت بھی ان کے معمولات کا ایک باقاعدہ حصہ تھی۔ انہوں نے رات کے وقت پینے کے لیے ایک خاص مقدار مقرر کر رکھی تھی جس سے وہ کبھی تجاوز نہیں کرتے تھے۔ ان کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ شراب کی بوتلوں والے بکس کی چابی ان کے داروغہ کے پاس رہتی تھی، جسے سخت تاکید تھی کہ نشے کی حالت میں اگر وہ مزید شراب مانگیں تو ہرگز چابی نہ دی جائے۔ غالب نشے کی تیزی کو کم کرنے کے لیے شراب میں گلاب کا عرق ملا لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے:
آسودہ باد خاطر غالب کہ خوئے اوست
آمیختن بہ بادہ صافی گلاب را
اگرچہ اس عادت نے آخرِ عمر میں ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن غالب نے اپنی زندگی کو اپنے ہی وضع کردہ اصولوں اور شرائط پر گزارا۔ ان کی خودداری، ان کا رکھ رکھاؤ اور ان کی قلندری انہیں اپنے دور کے دیگر امراء اور شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ ایک ایسے درویش تھے جو بظاہر دنیاوی تکلفات میں گھرے ہونے کے باوجود اندر سے ایک آزاد اور بے نیاز انسان تھے۔
