عالمی ادب میں جانوروں پر بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں، لیکن جب ہم بلیوں کی بات کرتے ہیں تو فرانسیسی ادب کے عظیم شاعر چارلس بودلیئر (Charles Baudelaire) کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔ بودلیئر نے بلیوں پر تین مشہور نظمیں لکھیں جن میں اس نے بلی کے مزاج میں انسانی صفات، رعونت، اور نزاکت کو تلاش کیا۔ لیکن یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ بودلیئر سے لگ بھگ ایک صدی قبل، اردو کے خدائے سخن میر تقی میر نے بلیوں پر جو مثنویاں لکھیں، وہ فکری اور جمالیاتی سطح پر بودلیئر کی نظموں کی ہم پلہ، بلکہ بعض حوالوں سے ان سے بھی آگے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی نے میر اور بودلیئر کا نہایت دلچسپ تقابل پیش کیا ہے۔ بودلیئر اپنی ایک نظم میں کہتا ہے کہ جب وہ بلی کے بالوں کو سہلاتا ہے تو اسے اپنی معشوقہ کی سرد اور گہری نگاہیں یاد آنے لگتی ہیں۔ وہ بلی کو ایک مغرور، سڈول اور پراسرار ہستی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اب ذرا میر تقی میر کی مثنوی 'موہنی بلی' کے یہ اشعار دیکھیے، جن میں بلی کو ایک محبوب اور مصاحب کا درجہ دیا گیا ہے:
گرد رو باندھے تو چہرہ حور کا
چاندنی میں ہو تو بکا نور کا
بلی کا ہوتا نہیں اسلوب یہ
ہے کبودی چشم یک محبوب یہ
کیا دماغ اعلیٰ طبیعت کیا نفیس
کیا مصاحب بے بدل کیسی جلیس
دونوں شعرا کے یہاں بلی محض ایک پالتو جانور نہیں، بلکہ نفاست، لطافت اور تمیز کا استعارہ ہے۔ بودلیئر کہتا ہے کہ عشاق اور علما، دونوں کو بلیوں سے محبت ہو جاتی ہے کیونکہ بلیاں بھی ان کی طرح سردی سے حساس اور گھروں کا افتخار ہوتی ہیں۔ میر نے بھی اپنی بلی 'سوہنی' (جو تسنگ کے سفر میں کھو گئی تھی) کی نفاست کا ذکر کچھ یوں کیا ہے:
کیا نفاست مزاج کی کہئے
ستھری اتنی کہ دیکھ ہی رہئے
فاروقی صاحب کے مطابق، دونوں شعرا میں فرق صرف اتنا ہے کہ میر کے پیکر زیادہ تر بصری (Visual) اور حرکی (Kinetic) ہیں، جبکہ بودلیئر کے پیکر اس کی افتادِ مزاج کے مطابق لمسی (Tactile) اور شامی (Olfactory) ہیں۔ عرب تہذیب کے اثرات کے باعث مشرق اور فرانس میں کچھ باتیں مشترک ہو سکتی ہیں، لیکن میر اور بودلیئر کے درمیان بلی کی نفسیات کو سمجھنے کی یہ مطابقت بہرحال حیرت انگیز اور میر کی آفاقیت کی دلیل ہے۔
