علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے حوالے سے ایک جگہ انکساری برتتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا غزل کی روایتی زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا یہ مشہور شعر اسی رویے کی عکاسی کرتا ہے:
نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی
لیکن کیا واقعی اقبال غزل کی زبان سے ناواقف تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے غزل کی زبان کو ترک نہیں کیا بلکہ اس میں توسیع کی۔ حدیثِ دلبری کو صحیفہِ کائنات بنانے کا جو عمل غالب سے شروع ہوا تھا، اقبال نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔ اگر میر کے یہاں 'عشق ہی زندگی ہے' اور غالب کے یہاں 'زندگی سے عشق ہے'، تو اقبال کے یہاں ایک 'بامعنی، کارکشا اور کارساز زندگی' کا تصور ملتا ہے۔ اقبال کی غزل میں سوز بھی ہے اور مستی بھی، جمال کے ساتھ جلال بھی ہے، اور جذبے کے ساتھ فکر کا مغز بھی۔ ان کا یہ شعر ان کے منفرد لب و لہجے کا غماز ہے:
عروس لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں
اقبال نے غزل میں اپنی مخصوص اصطلاحات متعارف کرائیں۔ 'نسیم سحر'، 'چنگاری'، 'نغمہ جبرئیل آشوب'، اور 'مینائے غزل' جیسے الفاظ اقبال کی غزل کی روح کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے روایتی صوفیانہ تصورات کو ایک نئی جہت دی اور خانقاہی نظام پر تنقید بھی غزل کے پیرائے میں کی:
مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں
کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدو
اقبال کی غزل کا ایک اور اہم پہلو ان کا ہیئتی تجربہ ہے۔ 'بانگ درا' کے بعد، خصوصاً 'بال جبریل' اور 'ارمغان حجاز' میں، اقبال تیزی سے 'غیر مردف' (بغیر ردیف کے) غزلوں کی طرف مائل ہوئے۔ بال جبریل کے دوسرے حصے کی ۶۱ غزلوں میں سے ۴۲ غیر مردف ہیں، جبکہ ارمغان حجاز کے اردو حصے کی تمام ۱۷ غزلیں غیر مردف ہیں۔ ردیف کی قید سے آزاد ہو کر اقبالؔ نے اپنی فکر کو زیادہ روانی اور تسلسل کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کا جلال اور جبرئیلی آہنگ سنائی دیتا ہے:
مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لئے
اقبال نے داغ سے عاشقانہ چھیڑ چھاڑ اور زبان کا لطف سیکھا، حالی سے سیاسی فکر لی، لیکن وہ دراصل غالبؔ کے سچے جانشین بن کر ابھرے۔ انہوں نے نظم کی زبان سے غزل میں کام لے کر اس کی دنیا کو وسیع کیا۔ اقبال کی غزلوں کا زندگی کے مختلف مواقع پر مسلسل استعمال اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ غزل کی زبان کے نہ صرف واقف تھے، بلکہ اس کے ایک عظیم معمار بھی تھے۔
