بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں اردو ادب دو واضح اور متصادم نظریاتی دھاروں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک طرف ترقی پسند تحریک تھی جو اشتراکی حقیقت نگاری، سماجی مقاصد اور طے شدہ سیاسی منطق کی علمبردار تھی، اور دوسری طرف ۱۹۴۰ء میں قائم ہونے والا 'حلقہ ارباب ذوق' تھا، جو ترقی پسند تحریک کی قطعیت زدگی اور تعصبات کے خلاف ایک ذہنی احتجاج کے طور پر وجود میں آیا۔ حلقے نے 'ہستی کی وحدت' اور 'غیر منقسم حسیت' کے فنکارانہ انکشاف کو اپنا اعلان نامہ بنایا۔
حلقے کے شعرا اس انسان کو، جو ترقی پسندوں کے یہاں صرف قومی، معاشرتی، مذہبی یا سیاسی اقدار کی علامت بن کر رہ گیا تھا، ایک 'ٹھوس انسان' سے ہم کنار کرنا چاہتے تھے۔ راشد اور میراجی اس حلقے کے شعور اور احساس کے سب سے قوی الاثر ترجمان تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ادب کو غیر ادبی مقاصد سے الگ کر کے ایک مقصود بالذات مظہر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ حلقے کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ اس نے ادب کو سیاسی اور اخلاقی آمریت سے نجات دلائی اور ادیبوں کو ان گروہوں کے غلبے سے بچایا جو قاری کو اپنے مخصوص نظریات کا غلام بنانا چاہتے تھے۔
اس آزادی اور دروں بینی کی قیمت حلقے کے شعرا کو ترقی پسندوں کی شدید تنقید کی صورت میں چکانی پڑی۔ علی سردار جعفری جیسے سرکردہ ترقی پسند نقاد نے حلقہ ارباب ذوق کی تمام مساعی کو ہیئت پرستی، ابہام پرستی اور جنس پرستی تک محدود قرار دے دیا۔ سردار جعفری کا خیال تھا کہ اس حلقے کے لکھنے والے ایک گندی اور مجہول رومانیت کے شکار ہیں اور فرائڈ اور ٹی ایس ایلیٹ کی آغوش میں ڈوب کر تمام سماجی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔
سردار جعفری نے یہ عجیب و غریب نظریہ بھی پیش کیا کہ چونکہ حلقے کا قیام پنجاب میں عمل میں آیا تھا، جہاں اردو صرف درمیانی طبقے کی علمی زبان ہے اور عوام سے اس کا رشتہ وسیع نہیں، اس لیے یہ شعرا آسانی سے یورپ کے انحطاط کا شکار ہو گئے۔ شمیم حنفی اس استدلال کو رد کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ خود ترقی پسند تحریک کی پذیرائی سب سے پہلے پنجاب ہی میں ہوئی تھی، اور اقبال و فیض جیسے شعرا کی فکری تشکیل بھی اسی خطے میں ہوئی تھی۔
دراصل، حلقے کے بعض شعرا نے سماجی اخلاق کے مروجہ معیاروں سے انحراف کیا اور شاعری میں جنسی حجابات کو دور کرنے کی سعی کی، جس کی وجہ سے انہیں فرائڈ کا قتیل سمجھ لیا گیا۔ انہوں نے صنعتی معاشرے کی بے دریغ مادیت پرستی کے خلاف ایک نئی مذہبیت اور انسان کے جذباتی و نفسیاتی مطالبات کو اپنے تجربوں کی اساس بنایا۔ ترقی پسندوں کا رویہ ان کے تئیں منفی اور معاندانہ رہا، کیونکہ وہ ادب کو ایک طے شدہ نظریے کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے، جبکہ حلقہ ارباب ذوق انسانی شخصیت کے ہر معنی خیز تجربے کو ادب کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔
