اردو تنقید کی تاریخ میں مولانا الطاف حسین حالی کی کتاب 'مقدمہ شعر و شاعری' کو جو مرکزی اور انقلابی حیثیت حاصل ہے، وہ کسی اور کتاب کے حصے میں نہیں آئی۔ حالی نے جب اردو شاعری، بالخصوص غزل اور قصائد کے فرسودہ دفتر کو مطعون کرنا شروع کیا اور غزل خوانی کو 'بے وقت کی راگنی' قرار دیا، تو ان کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ وہ لایعنی مضمون آفرینی، عشق و وصال کے فرضی ڈھکوسلوں اور خیالی رخسار و کمر کے افسانوں کو قوم کے اخلاقی اور سماجی مفاد کے خلاف سمجھتے تھے۔ لیکن اس تمام روایتی شاعری پر ضرب لگانے کا مطلب یہ تھا کہ اس کا ایک اہم حصہ، جو خود ان کے استاد مرزا غالب کی شاعری پر مشتمل تھا، وہ بھی اس تنقید کی زد میں آ جاتا۔
یہ اردو ادب اور غالب دونوں کی خوش نصیبی تھی کہ حالی نے اپنے تنقیدی نظریات کی تشکیل اس کمال ہوشیاری اور شعور کے ساتھ کی کہ ان میں غالب کی نہ صرف گنجائش نکل آئی بلکہ ان کی شاعری کا ایک مضبوط جواز بھی پیدا ہو گیا۔ حالی نے اپنے نظریات کو مستحکم کرنے کے لیے مغربی مطالعے، خاص کر ملٹن کے نظریات (سادگی، جوش اور اصلیت) سے مدد لی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ 'مقدمہ شعر و شاعری' میں شعر کی خوبیوں کا جو بیان کیا گیا ہے، وہ تقریباً پورے کا پورا غالب پر منطبق ہوتا ہے۔
حالی نے سادگی کی اضافیت کی جو بات کی، اور اصلیت کی تعریف میں جن خیالات کو اصلیت پر مبنی قرار دیا (یعنی وہ خیالات جو شاعر کے عندیہ میں موجود ہوں)، وہ غالب کے علاوہ کسی اور اردو شاعر پر پوری طرح صادق نہیں آتے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالی کی شعر کی خوبیوں کی ساری بحث غالب کا کلام سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ یہ ایک نہایت معنی خیز سوال ہے کہ اگر حالی غالب کے بجائے مومن، ذوق یا ناسخ کے شاگرد ہوتے تو کیا ان کی تنقید اتنی ہی انقلابی ہوتی؟ شاید نہیں۔
حالی نے پوچ، لچر اور سطحی مضامین پر مشتمل لکھنوی اور دہلوی شاعری کا قصر تو منہدم کر دیا، جس کے نتیجے میں جدید شاعری وجود میں آئی، لیکن چونکہ ان کی تنقید غالب کا جواز اپنے اندر رکھتی تھی، اس لیے غالب کی عظمت میں کوئی تخفیف نہ ہوئی۔ بلکہ جوں جوں پرانی شاعری کا وقار گھٹتا گیا، غالب کی وقعت میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا۔ حالی کا یہ کارنامہ اس قدر ہمہ گیر تھا کہ یگانہ چنگیزی جیسے شاعر نے بھی، جو زندگی بھر غالب کو برا بھلا کہتے رہے، دراصل غالب ہی کے عقلی استدلال اور پروقار اسلوب سے کسبِ فیض کر کے غیر عشقیہ غزل کی بنیاد رکھی۔ حالی کی تنقید نے غالب کو ایک ایسا استعارہ بنا دیا جس کے بغیر جدید اردو شاعری کا تصور ناممکن ہو گیا۔
