اردو تنقید میں فیض احمد فیض کی غزل کا تذکرہ کرتے وقت عموماً سب سے پہلا اور مقبول ترین دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کلاسیکی علامات کو نئے معنی اور نئی معنویت عطا کی۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ فیض کی مقبولیت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ ان کے قدم کلاسیکی زمین میں مضبوطی سے جمے رہے، لیکن انہوں نے اس بنیاد پر جو عمارت کھڑی کی، وہ جدید ذہن اور نئے دور کے مسائل سے ہم آہنگ تھی۔ تاہم، ممتاز نقاد شمس الرحمن فاروقی اس مقبول عام نظریے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک تنقیدی مغالطہ قرار دیتے ہیں۔
فاروقی صاحب کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ دار، رسن، قاتل، واعظ، اور کوئے یار جیسے الفاظ کو 'علامت' قرار دینا ہی بذات خود محلِ نظر ہے۔ ان کے نزدیک ہماری کلاسیکی غزل علامت کے جدید مغربی تصور سے یکسر ناآشنا تھی۔ یہ بات قرین قیاس نہیں کہ جس چیز کا تصور ہی ہماری روایتی شعریات میں موجود نہ ہو، ہمارے کلاسیکی شعرا اس سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ اسے شعوری طور پر برتتے بھی ہوں۔ مغربی اصطلاحات اور تصورات کی کچی پکی معلومات کی روشنی میں اردو غزل میں علامت کا وجود ثابت کرنے کی کوششیں اکثر بے سود ثابت ہوئی ہیں۔
فیض کی غزل بلاشبہ ان رسومیاتی الفاظ اور تلازمات سے مزین ہے جو کلاسیکی شاعری کا طرہ امتیاز ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فیض کا اجتہاد اور ان کی کلاسکیت محض اس بات تک محدود ہے کہ انہوں نے کوئے یار میں رقیب اور شیخِ شہر سے نبرد آزمائی کو نئے، یعنی سیاسی، معنوں میں استعمال کیا؟ فاروقی صاحب کے نزدیک، فیض کے مداحوں کا یہ اصرار کہ ان کی کلاسکیت محض چند الفاظ کو نئے معنی دینے تک محدود ہے، دراصل تعریف کے پردے میں ان کی مذمت کے مترادف ہے۔ اس سے فیض کی شاعری کا دائرہ انتہائی محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر فیض کی عظمت صرف روایتی الفاظ کو سیاسی معنی پہنانے میں ہے، تو پھر یہ خصوصیت تو مخدوم محی الدین، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور غلام ربانی تاباں جیسے دیگر ترقی پسند شعرا کے ہاں بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ بلکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ترقی پسندوں میں غزل کو باقاعدہ اختیار کرنے اور سیاسی موضوعات کو برتنے کی اولیت مخدوم کو حاصل ہے، جبکہ اس کی بنیاد حسرت موہانی، محمد علی جوہر اور علامہ اقبال پہلے ہی رکھ چکے تھے۔
لہٰذا، فیض کی انفرادیت اور ان کی غزل کے حسن کا سراغ محض اس بات میں نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے رسومیاتی الفاظ کو کثرت سے برتا اور ان میں سیاسی معنی داخل کیے۔ اگر فیض کی عظمت کی بنیاد صرف اسی نکتے پر رکھی جائے تو ان کا ادبی قد ان کے ہم عصروں کے مقابلے میں کوئی خاص انفرادیت قائم نہیں کر پاتا۔ فیض کی شاعری کی تفہیم کے لیے ہمیں ان فرسودہ تنقیدی رویوں سے ہٹ کر غزل کی اصل تہذیب اور شعریات کی طرف لوٹنا ہوگا۔
