ادبی تنقید میں علامت (Symbol) اور استعارے (Metaphor) کی بہت اہمیت ہے۔ محمد حسن عسکری اور شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، اکبر الٰہ آبادی اپنے عہد کے وہ واحد شخص تھے جنھوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی جدید چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور 'نشان' کو 'علامت' کا درجہ دینے میں کامیاب ہوئے۔ اکبر نے مغربی تہذیب اور استعماری قوت کے اظہار کے لیے 'برگڈ' (Brigade)، 'کمپ' (Camp)، 'توپ' اور 'انجن' جیسے الفاظ وضع کیے، جو ان کی شاعری میں ایک مکمل نظامِ فکر کے تحت استعمال ہوئے ہیں۔
اکبر کے یہاں 'انجن' محض ایک سفری وسیلہ نہیں، بلکہ نوآبادیاتی سامراجی طاقت کی بے امتیاز قوت اور اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یورپ نے مشرق کو اپنی صنعت و حرفت اور طاقت کے بل بوتے پر کس طرح بے بس کر دیا ہے۔ ان کا یہ شعر اس بے بسی کی شاندار تصویر کشی کرتا ہے:
اس کا پسیجنا ہے اور اس کے ہیں بھپارے
یورپ نے ایشیا کو انجن پہ رکھ لیا ہے
محاورہ ہے 'تلوار پر رکھ لینا۔' اکبر سارے مشرق کو مغربی انجن پر سوار دیکھتے ہیں، گویا یورپ نے مشرق کو اپنی صنعت وحرفت کی تلوار پر رکھ لیا ہے۔
اسی طرح 'توپ' ان کے یہاں استعماری جبر اور دغا بازی کی علامت ہے۔ نوآبادیاتی نظام کی توسیع میں جنگ اور تشدد کا جو کردار تھا، اکبر نے اسے 'توپ' کے استعارے میں سمو دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
لگی لپٹی نہ لگا رکھتی تھی تلوار کی جنگ
توپ کیا چاہتی ہے صرف دغا چاہتی ہے
اکبر کی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ریل گاڑی اور انجن کو محض سامراجی طاقت کی توسیع کا وسیلہ ہی نہیں سمجھا، بلکہ اسے ماحولیاتی آلودگی اور فطرت کی تباہی کا سبب بھی قرار دیا۔ ایک ایسے دور میں جب ماحولیات (Environment) کا کوئی تصور تک نہ تھا، اکبر نے مشینوں کے شور اور دھوئیں سے پیدا ہونے والے بگاڑ کو محسوس کر لیا تھا:
مشینوں نے کیا نیکوں کو رخصت
کبوتر اڑ گئے انجن کی پیں سے
تنہائی وطاعت کا یہ دور ہے اب دشمن
پیڑوں پہ نہ وہ طائر صحرا پہ نہ وہ جوبن
اکبر کی یہ علامتی شاعری ثابت کرتی ہے کہ وہ محض ایک روایتی قدامت پسند نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے روشن خیال اور دیدۂ حق آگاہ مفکر تھے جس نے مشرق و مغرب کے تصادم کو پورے ایشیا کے نقطۂ نظر سے دیکھا اور آنے والے تہذیبی و ماحولیاتی بحران کی پیشگی خبر دے دی۔
