کسی بھی زبان کی ادبی ثروت کا اندازہ اس کے صنائع و بدائع سے لگایا جاتا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے 'تحفۃ الہند' کے حوالے سے برج بھاشا کے علمِ بدیع (النکار) کا عربی اور فارسی کے علمِ بدیع سے نہایت دلچسپ تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندی انشا پردازوں نے کلام میں لطافت پیدا کرنے کے لیے کیسے کیسے نازک پیرائے ایجاد کیے تھے۔
ہندی کی ایک صفت 'بے ینگ' ہے، جسے عربی میں 'تعریض' کہا جاتا ہے۔ اس میں بات کو نہایت شوخ اور درپردہ انداز میں کہا جاتا ہے۔ مثلاً، ایک عورت اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ 'تیری پیشانی پر جو سرخی ہے، یہ تیری سرخ ٹوپی کا عکس ہے یا رقیبہ کی حنا کا اثر ہے۔' بظاہر یہ ایک سادہ شکایت ہے، لیکن درپردہ وہ یہ طعنہ دے رہی ہے کہ شوہر نے رقیبہ کے قدموں میں سر رکھا ہے جس سے پیشانی سرخ ہو گئی ہے۔ سنسکرت اور بھاشا میں اس صفت کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ بعض اوقات الفاظ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ محبوب رات بھر جاگ کر مخمور آنکھوں کے ساتھ آتا ہے، تو عاشق کچھ کہنے کے بجائے محض ایک آئینہ اس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ خود سب کچھ بیان کر دے گا۔
اسی طرح 'سکارن اُت پریچھا' ہے جسے عربی و فارسی میں 'حسنِ تعلیل' کہتے ہیں۔ ہندی میں اس کے نہایت لطیف پیرائے ملتے ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ چاند معشوق کا حسن چرا کر آسمان پر بھاگ گیا ہے، اسی لیے چوروں کی طرح رات کو نکلتا ہے۔ اسی مضمون کو فارسی کے شاعر نے یوں باندھا ہے:
از شرم ابروانِ بلند تو ماہ نو
خود را چناں نمود کہ کس دید و کس نہ دید
(یعنی معشوق کے ابرو کی شرم سے، ماہِ نو اس طرح چھپ کر نکلا کہ کسی نے دیکھا، کسی نے نہیں دیکھا۔)
ایک اور دلچسپ صنعت 'ورودھا بھاس النکار' ہے، جس میں بظاہر بات غلط معلوم ہوتی ہے لیکن واقعتاً صحیح ہوتی ہے۔ جیسے بھاشا میں 'سیام' سیاہ کو بھی کہتے ہیں اور معشوق کو بھی۔ اگر کہا جائے کہ 'سیام زرد ہے' تو بظاہر غلط ہے، لیکن اگر سیام سے مراد معشوق لی جائے تو جملہ درست ہو جاتا ہے۔ عربی میں مقاماتِ حریری میں اس کی شاندار مثالیں موجود ہیں۔
ان تمام مثالوں سے شبلی یہ ثابت کرتے ہیں کہ برج بھاشا کا فنِ معانی و بیان کسی طور پر بھی عربی اور فارسی سے کم تر نہیں تھا، بلکہ بعض مقامات پر اس میں ایسی جدت اور نزاکت پائی جاتی ہے جو قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
