تیمور حسن
غزل 18
اشعار 13
ہم دنیا سے جب تنگ آیا کرتے ہیں
اپنے ساتھ اک شام منایا کرتے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے
یہ آرزو تھی مرے ساتھ تو سفر کرتا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مری توجہ فقط مرے کام پر رہے گی
میں خود کو ثابت کروں گا دعویٰ نہیں کروں گا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو
عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں نے بخش دی تری کیوں خطا تجھے علم ہے
تجھے دی ہے کتنی کڑی سزا تجھے علم ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے