سید وحیدالدین سلیم
مضمون 9
اقوال 6
ہمارے شعرا جب غزل لکھنے بیٹھتے ہیں تو پہلے اس غزل کے لیے بہت سے قافیے جمع کرکے ایک جگہ لکھ لیتے ہیں، پھر ایک قافیہ کو پکڑ کر اس پر شعر تیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قافیہ جس خیال کے ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے اسی خیال کو ادا کر دیتے ہیں۔ پھر دوسرے قافیہ کو لیتے ہیں، یہ دوسرا قافیہ بھی جس خیال کے ادا کرنے کا تقاضا کرتاہے اسی خیال کو ظاہر کرتے ہیں، چاہے یہ خیال پہلے خیال کے برخلاف ہو۔ اگر ہماری غزل کے مضامین کا ترجمہ دنیا کی کسی ترقی یافتہ زبان میں کیا جائے، جس میں غیر مسلسل نظم کا پتہ نہیں ہے تو اس زبان کے بولنے والے نو دس شعر کی غزل میں ہمارے شاعر کے اس اختلاف خیال کو دیکھ کر حیران رہ جائیں۔ ان کو اس بات پر اور بھی تعجب ہوگا کہ ایک شعر میں جو مضمون ادا کیا گیا ہے، اس کے ٹھیک برخلاف دوسرے شعر کا مضمون ہے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ شاعر کا اصلی خیال کیا ہے۔ وہ پہلے خیال کو مانتا ہے یادوسرے خیال کو۔ اس کی قلبی صدا پہلے شعر میں ہے یا دوسرے شعر میں۔