شین کاف نظام
غزل 35
نظم 11
اشعار 32
چبھن یہ پیٹھ میں کیسی ہے مڑ کے دیکھ تو لے
کہیں کوئی تجھے پیچھے سے دیکھتا ہوگا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گلی کے موڑ سے گھر تک اندھیرا کیوں ہے نظامؔ
چراغ یاد کا اس نے بجھا دیا ہوگا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تو اکیلا ہے بند ہے کمرا
اب تو چہرا اتار کر رکھ دے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اونچی عمارتیں تو بڑی شاندار ہیں
لیکن یہاں تو رین بسیرے تھے کیا ہوئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
منظر کو کسی طرح بدلنے کی دعا دے
دے رات کی ٹھنڈک کو پگھلنے کی دعا دے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
دوہا 4
یاد آئی پردیس میں اس کی اک اک بات
گھر کا دن ہی دن میاں گھر کی رات ہی رات
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہم کبیرؔ اس کال کے کھڑے ہیں خالی ہاتھ
سنگ کسی کے ہم نہیں اور ہم سب کے ساتھ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
من رفتار سے بھاگتا جاتا ہے کس اور
پلک جھپکتے شام ہے پلک جھپکتے بھور
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
من میں دھرتی سی للک آنکھوں میں آکاش
یاد کے آنگن میں رہا چہرے کا پرکاش
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کتاب 29
ویڈیو 8
This video is playing from YouTube
