سالک لکھنوی
غزل 21
اشعار 23
ساحل پہ قید لاکھوں سفینوں کے واسطے
میری شکستہ ناؤ ہے طوفاں لیے ہوئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
جو تیری بزم سے اٹھا وہ اس طرح اٹھا
کسی کی آنکھ میں آنسو کسی کے دامن میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
منزل نہ ملی کشمکش اہل نظر میں
اس بھیڑ سے میں اپنی نظر لے کے چلا ہوں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اپنی خودداری سلامت دل کا عالم کچھ سہی
جس جگہ سے اٹھ چکے ہیں اس جگہ پھر جائیں کیا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
یہ بھی اک رات کٹ ہی جائے گی
صبح فردا کی منتظر ہے نگاہ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے