سعید اللہ قریشی
اشعار 4
روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز
زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کبھی تو منبر و محراب تک بھی آئے گا
یہ قہر قہر کے اسباب تک بھی آئے گا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
جب تک کہ تو غزل میں اتاری نہ جائے گی
بستر پہ آج رات گزاری نہ جائے گی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
میں ارتقائی مناظر کی اک نشانی ہوں
مجھے سکون سے جینے دو سانس لینے دو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے