رشید لکھنوی
غزل 39
اشعار 25
زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے
مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہنس ہنس کے کہہ رہا ہے جلانا ثواب ہے
ظالم یہ میرا دل ہے چراغ حرم نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
تم نے احسان کیا ہے کہ نمک چھڑکا ہے
اب مجھے زخم جگر اور مزا دیتے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہماری زندگی و موت کی ہو تم رونق
چراغ بزم بھی ہو اور چراغ فن بھی ہو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دونوں آنکھیں دل جگر ہیں عشق ہونے میں شریک
یہ تو سب اچھے رہیں گے مجھ پر الزام آئے گا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے