قمر رئیس بہرائچی
اشعار 5
اپنوں کے درمیاں بھی گھٹن سے لگی مجھے
رشتوں کی جستجو یہ کہاں لے کے آ گئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں کیسے مان لوں وہ مسیحائے وقت ہے
کردار اس کا لائق دستار بھی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
رویا تمام عمر وہ شبنم کے ساتھ ساتھ
پھر کیوں کہوں کہ درد گل تر میں کچھ نہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پردۂ شب سے نکلنے کا نہیں لیتا نام
آج سورج ہی سویرا نہیں ہونے دیتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میرا قاتل جو مرے خون سے تر لگتا ہے
سر اٹھائے تو ہے شرمندہ مگر لگتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے