نصرت گوالیاری
غزل 8
اشعار 22
بھول جانے کا مجھے مشورہ دینے والے
یاد خود کو بھی نہ میں آؤں کچھ ایسا کر دے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
قانون جیسے کھو چکا صدیوں کا اعتماد
اب کون دیکھتا ہے خطا کا ہے رخ کدھر
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہے
صبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
وہ گلابی بادلوں میں ایک نیلی جھیل سی
ہوش قائم کیسے رہتے تھا ہی کچھ ایسا لباس
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئے
کچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے