ناطق لکھنوی
غزل 25
اشعار 14
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح
میں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مر مر کے اگر شام تو رو رو کے سحر کی
یوں زندگی ہم نے تری دوری میں بسر کی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت
پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل ہے کس کا جس میں ارماں آپ کا رہتا نہیں
فرق اتنا ہے کہ سب کہتے ہیں میں کہتا نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے