Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mukhtar Tilhari's Photo'

مختار تلہری

1960 | بریلی, انڈیا

مختار تلہری

اشعار 16

دل دکھانا مرا نہیں مقصد

حق بیانی مری نہیں جاتی

  • شیئر کیجیے

اک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے

اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں

یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

شدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے

ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں

روشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ

کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں

غزل 7

کتاب 6

 

"بریلی" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے