مفتی صدرالدین آزردہ
غزل 14
نظم 1
اشعار 8
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں
سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
آزردہؔ مر کے کوچۂ جاناں میں رہ گیا
دی تھی دعا کسی نے کہ جنت میں گھر ملے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اس درد جدائی سے کہیں جان نکل جائے
آزردہؔ مرے حق میں ذرا یوں بھی دعا کر
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ناصح یہاں یہ فکر ہے سینہ بھی چاک ہو
ہے فکر بخیہ تجھ کو گریباں کے چاک میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے