مرزا شوقؔ لکھنوی
غزل 2
اشعار 6
گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں
چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں
EXPLANATION #1
اس شعر میں ’’دونوں وقت ملتے ہیں‘‘ سے شاعر نے ندرت کا پہلو نکالا ہے۔ پورا شعر ایک حرکی پیکر ہے۔ گیسو کا ’ہوا سے رخ پر ہلنا‘ اور ’دونوں وقت کاملنا ‘ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ جب گیسو اوررخ کہا تو گویا بصری پیکر وجود میں آیا، اور جب دونوں وقت ملنا کہا تو اس سے جو جھٹپٹے کا منظر بن گیا اس سے بھی بصری پیکر بن گیا۔
شعر میں جو کیفیت والی بات ہے وہ گیسو کے ہوا سے رخ پر ڈھلنے اور ان دونوں عوامل کے نتیجے میں دو وقت ملنے سے پیدا کردی گئی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے چہرے پر ہوا سے گیسو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جب ہوا سے محبوب کے رخِ تاباں پر زلفیں ہلتی ہیں تو شاعر کچھ لمحوں کے لئے روشنی اور کچھ کے لئے اندھیرے کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس منظر کو وہ جھٹپٹے سے تشبیہ دیتا ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر نکتے والی بات ہے وہ ہے’’چلیے اب‘‘ ۔ یعنی عام آدمی شام کے وقت اپنے گھر چلا جاتا ہے اسی بنا پر شاعر کہتا ہے کہ چونکہ محبوب کے چہرے پر جھٹپٹے کا منظر دکھائی دیتا ہے اس لئے اب چلا جانا چاہیے۔
شفق سوپوری
مثنوی 1
کتاب 25
دیگر شعرا کو پڑھیے
-
مرزا غالب
-
نظام رامپوری
-
مومن خاں مومن
-
لالہ مادھو رام جوہر
-
مصحفی غلام ہمدانی
-
سیماب اکبرآبادی
-
عیش دہلوی
-
شیخ ابراہیم ذوقؔ
-
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
-
عبدالرحمان احسان دہلوی
-
زین العابدین خاں عارف
-
جرأت قلندر بخش
-
میر حسن
-
فنا نظامی کانپوری
-
سید یوسف علی خاں ناظم
-
بہادر شاہ ظفر
-
جون ایلیا
-
ابھیشیک کمار امبر
-
میر تقی میر
-
افتخار عارف