مرزا آسمان جاہ انجم
غزل 47
اشعار 33
محبت اس لیے ظاہر نہیں کی
کہ تم کو اعتبار آئے نہ آئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
نہیں ہے دیر یہاں اپنی جان جانے میں
تمہارے آنے کا بس انتظار باقی ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
نہ تسلی نہ تشفی نہ دلاسا نہ وفا
عمر کو کاٹیں ترے چاہنے والے کیوں کر
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
خدا کا گھر بھی ہے دل میں بتوں کی چاہ بھی ہے
صنم کدہ بھی ہے دل اپنا خانقاہ بھی ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کچھ نہیں معلوم ہوتا دل کی الجھن کا سبب
کس کو دیکھا تھا الٰہی بال سلجھاتے ہوئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے