جمیل عظیم آبادی
غزل 12
نظم 12
اشعار 5
جنگل جنگل آگ لگی ہے دریا دریا پانی ہے
نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
صبر کی آنچ سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے
بت بنے آج وہ بیٹھے ہیں سرہانے میرے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں
ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مری تقدیر میں شاید کوئی تعبیر نہیں
رہ گئے یوں ہی دھرے خواب سہانے میرے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے