عشق اورنگ آبادی
غزل 40
اشعار 18
عشقؔ روشن تھا وہاں دیدۂ آہو سے چراغ
میں جو یک رات گیا قیس کے کاشانے میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے
گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یہ بت حرص و ہوا کے دل کے جب کعبہ میں توڑوں گا
تمہاری سبحہ میں کب شیخ جی زنار چھوڑوں گا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
تو نے کیا دیکھا نہیں گل کا پریشاں احوال
غنچہ کیوں اینٹھا ہوا رہتا ہے زردار کی طرح
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
مزا آب بقا کا جان جاناں
ترا بوسہ لیا ہووے سو جانے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے