اسحاق وردگ
غزل 16
اشعار 5
کسی کی یاد منانے میں عید گزرے گی
سو شہر دل میں بہت دور تک اداسی ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
بازار ہیں خاموش تو گلیوں پہ ہے سکتہ
اب شہر میں تنہائی کا ڈر بول رہا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اساتذہ نے مرا ہاتھ تھام رکھا ہے
اسی لئے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے