ابراہیم آتش کا تعارف
ابراہیم آتش کا اصل نام محمد ابراہیم ہے۔ ابراہیم آتش بطور قلمی نام استعمال کرتے ہیں جب کہ تخلص آتش ہے۔ اردو حلقے میں ابراہیم آتش کے نام سےمعروف ہیں۔ والد کا نام شیخ محبوب تھا جو 1957ء میں رحلت فرماگئے اور والدہ محترمہ جمراتن بی بی بھی 1962ء میں فوت کرگئیں۔ شاعری کی ابتدا انھوں نے 1955ء میں شروع کی اور عزیزی غواصی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے۔ واضح ہو کہ عزیز غواصی حضرت غواص قریشی جن کا ہاؤڑہ، مغربی بنگال کے مستند اساتذہ میں شمار ہوتا تھا، کے جانشین تھے۔ ابراہیم آتش کا شعری مجموعہ ”صدائے دل“ 2021ء میں شائع ہوا۔
ابراہیم خود کہتے ہیں کہ ’’صدائے دِل‘‘ میرا پہلا شعری مجموعہ ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ میری ساٹھ سالہ شعری ریاضت کاانتخاب ہے۔ روزانہ آٹھ گھنٹوں تک مشینوں سے لڑنا اور شعر کہنا میرے لیے کوئی آسان عمل نہیں تھامگر ہم عصروں اور شعر فہم لوگوں نے میری شاعری کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جس سے مجھے بڑی تقویت ملی اور میں مسلسل وارداتِ قلبی اور خارجی عوامل کو شعری پیرہن عطا کرتا رہا“۔
بقول اردو کے معروف شاعر اور ادیب ایم کے اثر ”تقسیمِ ہند کے وقت آتشؔ کے والد علاقے کے مالدار لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ان کے تین مکانات تھے جو 1950ء کے فسادات میں لوٹ لیے گئے اور تینوں مکانات پر فسادیوں نے قبضہ کرلیا جو آج تک ان کے قبضے میں ہیں اور ابراہیم آتش کرائے کے مکان میں زندگی کے دن گزاررہے ہیں۔ گویا 57 برسوں سے روزانہ ہر پل مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں جو حقیقی معنوں میں بیک وقت انسان اور فنکار کی موت کا المیہ ہے۔ اس ناقابلِ فراموش المیہ کی بازگشت آتشؔ کے درج ذیل مطلع میں سنائی دیتی ہے:
سانس لینا بھی یہاں جرم و خطا ہو جیسے
زندگی یوں ہے کہ جینے کی سزا ہو جیسے
اسی زندہ احساس نے ابراہیم آتشؔ کو شاعرِ آتش نوا بننے پر مجبور کیا۔ یہی ان کے شاعرانہ افکار کی اساس (Base) ہے گویا ہر پل بے بسی کی گود میں رہ کر امید کی لَو بننا ہر کسی کی سرشت میں نہیں ہوسکتی۔ زندگی جھیلنے والا انسان ہی پیمبرانہ صدا دے سکتا ہے اور اس آواز کا مفہوم ہی ابراہیم آتش کے افکار میں پنہاہے جو ان کے اشعار سے عیاں ہے:
آتش اگر بڑھا ہے اندھیرا تو کیا ہوا
شاید نمایاں صبح مری شام ہی سے ہو
———
ہے سر پہ غریبی کا گراں بوجھ تو کیاہے
ہونٹوں پہ چمکتی رہے مسکان ہمیشہ