حنیف فوق
غزل 11
اشعار 12
اک جنم کے پیاسے بھی سیر ہوں تو ہم جانیں
یوں تو رحمت یزداں چار سو برستی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
وقت کی لاش پہ رونے کو جگر ہے کس کا
کس جنازے کو لیے اہل نظر آتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اداس راتوں کی تیرگی میں نہ کوئی تارا نہ کوئی جگنو
کسی کا نقش قدم ہی چمکے تو نور کا اعتبار آئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پھر مشیت سے الجھتی ہے مری دیوانگی
نالۂ شبگیر اشکوں کے گہر کافی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شام کی بھیگی ہوئی پلکوں میں پھر
کوئی آنسو آئے اور تارا بنے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے