Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حنیف اخگر

غزل 23

اشعار 32

اظہار پہ بھاری ہے خموشی کا تکلم

حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور

جو کشود کار طلسم ہے وہ فقط ہمارا ہی اسم ہے

وہ گرہ کسی سے کھلے گی کیا جو تری جبیں کی شکن میں ہے

کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ

وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا

بے شک اسیر گیسوئے جاناں ہیں بے شمار

ہے کوئی عشق میں بھی گرفتار دیکھنا

کافر سہی ہزار مگر اس کو کیا کہیں

ہم پر وہ مہرباں ہے مسلمان کی طرح

ویڈیو 22

This video is playing from YouTube

حنیف اخگر

حنیف اخگر

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

اس طرح عہد_تمنا کو گزارے جائیے

حنیف اخگر

اس طرح عہد_تمنا کو گزارے جائیے

حنیف اخگر

حال_دل_بیمار سمجھ میں چارہ_گروں کی آئے کم

حنیف اخگر

حنیف اخگر

حنیف اخگر

خلوت_جاں میں ترا درد بسانا چاہے

حنیف اخگر

خلوت_جاں میں ترا درد بسانا چاہے

حنیف اخگر

دیکھنا یہ عشق میں حسن_پذیرائی کے رنگ

حنیف اخگر

عزم_سفر سے پہلے بھی اور ختم_سفر سے آگے بھی

حنیف اخگر

وہ دل میں اور قریب‌_رگ_گلو بھی ملے

حنیف اخگر

Recitation

بولیے