حنیف اخگر
غزل 23
اشعار 32
اظہار پہ بھاری ہے خموشی کا تکلم
حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
جو کشود کار طلسم ہے وہ فقط ہمارا ہی اسم ہے
وہ گرہ کسی سے کھلے گی کیا جو تری جبیں کی شکن میں ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کسی کے جور مسلسل کا فیض ہے اخگرؔ
وگرنہ درد ہمارے سخن میں کتنا تھا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
بے شک اسیر گیسوئے جاناں ہیں بے شمار
ہے کوئی عشق میں بھی گرفتار دیکھنا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کافر سہی ہزار مگر اس کو کیا کہیں
ہم پر وہ مہرباں ہے مسلمان کی طرح
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ویڈیو 22
This video is playing from YouTube
