حبیب موسوی
غزل 30
اشعار 39
دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو
خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد
میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں
آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب
مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جب کہ وحدت ہے باعث کثرت
ایک ہے سب کا راستا واعظ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے