بیتاب عظیم آبادی
غزل 12
اشعار 5
اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا
یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
تڑپ کے رہ گئی بلبل قفس میں اے صیاد
یہ کیا کہا کہ ابھی تک بہار باقی ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کتنے الزام آخر اپنے سر
تم نے غیروں کو سر چڑھا کے لئے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
لڑ گئی ان سے نظر کھنچ گئے ابرو ان کے
معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل جو دیتا ہے ذرا سوچ لے انجام کو بھی
ان کی آنکھوں میں مروت نہیں کچھ نام کو بھی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے