اثر اکبرآبادی
غزل 2
اشعار 13
الفت کا ہے مزہ کہ اثرؔ غم بھی ساتھ ہوں
تاریکیاں بھی ساتھ رہیں روشنی کے ساتھ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کتنا مشکل ہے خود بخود رونا
بے خودی سے رہا کرے کوئی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ
کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
زندگی تجھ سے یہ گلا ہے مجھے
کوئی اپنا نہیں ملا ہے مجھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
فکر جہان درد محبت فراق یار
کیا کہئے کتنے غم ہیں مری زندگی کے ساتھ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے