زندگی
تا بہ حد نظر ایک سنسان تنہا گلی
جس کے اوپر خلاؤں کی صورت
سیہ نیلگوں شامیانے لٹکتے ہوئے
جن سے ٹانکی ہوئی منتشر زرد شمعوں کی ترتیب سے
چند مبہم سے کلمات لکھے ہوئے
زندگی پا شکستہ تمناؤں کے زخمی جسموں سے لپٹی ہوئی
زندگی غم کے بہتے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی
ان افق تا افق وسعتوں کی گھٹن میں سسکتی ہوئی
زندگی ایک سنسان تنہا گلی
جیسے کم عمر ہاتھوں سے پھسلا ہوا فیصلہ ہو کوئی
منتشر سرد بے ساختہ تیرہ سنگیں امٹ
میں اکیلا اکیلا یہاں
اور افق تا افق تیرہ و تار ویرانیاں
اپنی تاریکیوں کے فسوں میں سلگتی ہوئی سبز آنکھیں
مرے کپکپاتے سکوں کے بدن پر جمائے ہوئے
پا شکستہ تمناؤں کے ریشمی خوں میں لتھڑے ہوئے واہمے
دھیرے دھیرے مری سمت بڑھتے ہوئے
اک قدم دو قدم
تا بہ حد نظر از افق تا افق
خامشی کا دھواں
آسماں بوس دیواروں کے پاؤں پڑتا ہوا
بے زباں پا شکستہ تمناؤں کے ہاتھ افلاک کی سمت اٹھے ہوئے
اور اوپر بہت دور اوپر کہیں مسکراتا ہوا
سرد تاریک سنگیں امٹ فیصلہ
درد نا آشنا ننھے انجان ہاتھوں سے پھسلا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.