خودکشی کی ایک خبر پڑھ کر
زندگی تلخیوں سے بھرا ایک زنداں سہی
موت سے تو بہرحال بہتر ہی ہے
موت میں کیا دھرا ہے بھلا
ایک بے رنگ سی خامشی کے سوا
زندگی رنگ ہے
ہر گھڑی اک نئے سے نیا اس کا آہنگ ہے
زندگی یاس پرور امیدوں کے سائے تلے
نت نئے تجربوں کی پنہ گاہ ہے
ڈھلتے سائے ہوں یا پھیلتی دھوپ ہو
آسماں سے برستی ہوئی بارشوں
خوشبوؤں میں بسے پھول پر تو کسی کا اجارہ نہیں
صبح کو چہچہاتے پرندے کہیں
اور زرتار جیسی سنہری کرن
شام کا سحر گوں جھٹپٹا
رات کی راز داری میں ڈوبی ہوئی تیرگی
زندگی کی وہ ارزاں عنایات ہیں
جو کہ ان مول ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.