دستک
واجبہ تو نے مری فکر پہ دستک دے کر
مجھ پہ بے انت جزیروں کی تمنا کھولی
تو وہ احساس کہ رگ رگ میں اتارے خوشبو
تو وہ امید کہ چہرے پہ اجالا کر دے
تو وہ موسم ہے کہ صحراؤں میں لائے سبزہ
تو وہ صرصر جو اجل بخت کو اچھا کر دے
تو وہ سپنا ہے جو آنکھوں کو دھنک زار کرے
تو وہ صورت ہے جو احساس کو زندہ کر دے
تو وہ جھونکا کہ ہرا کر دے محبت کا وجود
تو وہ جوہر ہے جو قطرے کو بھی دریا کر دے
تو ہے امید کے سائے میں چمکتا ہوا خواب
جن نگاہوں میں سمائے انہیں خیرہ کر دے
میں کوئی سوکھا ہوا پیڑ تھا نومیدی کا
واجبہ! تو نے مری ذات کو سرسبز کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.