زیست کے تھل میں
دل کا ڈمرو بجاتی ہوئی انگلیاں ساز ہستی کو چھیڑیں اگر
رنگ و آہنگ کا سیل خوش بار سا زیست کے تھل میں بھی بہہ پڑے
اور مایوس آنکھوں میں سپنوں کا ڈر بانٹنا واہمہ یہ کہے
خواب کا دیکھنا ناروا تو نہیں
خواب کو دیکھنے سے نہ اب تم ڈرو
درد کے کہر میں لپٹی آنکھو کہو
خواب کے دائروں کی قزح رنگ برکھا کی رت ناچتے وقت کیسی لگی
آنکھ میں اب کہیں بھی سفیدی نہیں
زرد سا آسماں نیلگوں ہو گیا
اور نظر کہہ اُٹھی
رنگ پر رنگ کو بے طرح سے ملو
ساز کو چھیڑ دو
رقص میں ہے زمیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.