وجود و عدم کی اتھاہ کون جانے
صحیفوں میں اترے وہ صدیق قصے
جو آغاز تاریخ کہتے ہیں لیکن
سن و سال کوئی بتاتے نہیں ہیں
سو آغاز و انجام اپنے جہاں کے سبھی بے سن و سال ٹھہرے
تو ہم اپنے لمحوں کو کیوں گن رہے ہیں
زمان و مکاں کی حدوں سے گزر کر اگر سوچتے تم
تو تم کو ازل سے ابد تک نظرتا
کہ ہم نے جن آنکھوں کو اب تک تلاشا
وہ الواح سنگیں پہ مرقوم کب ہیں
یہ شعر و سخن کے حروف غنودہ
اسی گرگ کہنہ کی چالاکیاں ہیں
جو سینے کی قوسینہ ہڈیوں میں بیٹھا
چلاتا ہے تیری مری آسیائے لہو کو
وو یک مشت خونبار وہ غم کشیدہ
دل نا رسیدہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.