Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دھواں

MORE BYرضی اختر شوق

    پھر اسی راہ سے گزرا ہوں جہاں

    رات بھر زخم وفا کی صورت

    اک دریچہ سا کھلا رہتا تھا

    ایک دیوار پہ نیم آویزاں

    چند گزرے ہوئے خوابوں کی کتاب

    ایک تصویر تھی ماضی کا حساب

    جس پر اندیشۂ فردا بن کر

    کوئی سایا سا جھکا رہتا تھا

    کسی نوخیز تمنا کی طرح

    کوئی قندیل جلا کرتی تھی

    جس کے ابھرے ہوئے شعلے سے ہوا

    راز دارانہ ملا کرتی تھی

    کچھ عجب رنگ کی بستی تھی وہ

    کوئی موسم ہو مہکتی تھی وہ

    کچھ عجب لوگ تھے آباد وہاں

    اپنے خوابوں میں خیالوں میں مگن

    ایسے شاداب کہ شاداب بہت

    ایسے خوش باش کہ سورج کی کرن

    ایسے نایاب کہ نایاب بہت

    کچھ برس بعد مسافر کی طرح

    پھر اسی راہ سے گزرا ہوں مگر

    دیکھتا کیا ہوں کہ وہ لوگ نہیں

    ایک وحشت ہے سر راہ گزر

    نہ وہ بستی ہے نہ بستی کے مکیں

    نہ وہ تصویر نہ دیوار نہ در

    نہ وہ سایا نہ وہ قندیل کہیں

    نہ وہ خوشبو نہ ہواؤں کا سفر

    اور ہی بوجھ لیے ہے وہ زمیں

    اس وفا کیش دریچے کی جگہ

    سنگ و فولاد کے رشتے سے بندھی

    کوئی سفاک کوئی دشمن جاں

    ایک پر ہیچ عمارت ہے جہاں

    دیکھتا ہوں تو ترس آتا ہے

    ایسے بے کل ہیں ہزاروں انساں

    موم کی طرح پگھلتے ہیں بدن

    اور رہ رہ کے نکلتا ہے دھواں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے