’’کل ڈ سیک‘‘ بند گلی
زندگی کو روز دیتے ہیں خراج
آنسوؤں کو آنکھ کی دہلیز پر
عرق جسم و جاں کو سورج کی قرع انبیق میں
روز رکھتے ہیں ابلنے کے لیے
اس قدر مصروف ہوتی ہے حیات
جس طرح چیونٹی کوئی ہلکان ذروں کے لیے
وقت کی اس بے کراں منجدھار میں
ایک دو لمحے نہیں ملتے سنبھلنے کے لیے
زندگی میں گنجلک رشتوں کے جال
درد و غم کے تانوں بانوں سے بنے
عمر بھر رہتے ہیں چوہوں کی طرح
اک تگ و دو میں کترنے کے لئے
ہیں عجب دستور اس دنیا کے بھی
التجاؤں کے دئے لب کی منڈیروں پر دھرو
ہاتھ کے پیالے دعاؤں سے بھرو
کاسۂ سر میں لہو رکھو پگھلنے کے لیے
زندگی کی غار کے قیدی ہیں ہم
بند گلیاں تو بہت ہیں ہر طرف
موت کے اک چور رستے کے سوا ایک بھی رستہ نہیں اس سے نکلنے کے لئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.