چاپ
یہاں اب سے کچھ دیر پہلے
سیہ زنگ آلود پہیوں کے رکتے سنبھلتے ہوئے شور میں
زرد آوارہ کتے کی آواز
سینے کے زندان کو توڑ کر
ایک قیدی کے مانند باہر کو اڑنے لگی تھی
وہ گھائل سسکتی ہوئی چیخ
اب لاکھوں کرچوں میں بٹ کر کراہوں میں ڈھل کر
نگاہوں کے غرفوں میں خنجر چھپائے
اندھیرے کے پرہول بن کی تہوں میں اترنے لگی ہے
اترتی چلی جا رہی ہے
میں اس اندھی آواز سے بچ نکلنے کی خاطر
ہزاروں جتن کر چکا ہوں
دہکتی ہوئی سانس کو اپنے سینے میں روکے
لہو سے تہی برف کی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے
اندھیرے کے جنگل میں دبکا پڑا ہوں
مگر کیا کروں
اس تعاقب میں آتی ہوئی چاپ کو کیا کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.