بونوں کے درمیان
کس قدر بے کار سی باتوں میں الجھے ہیں سبھی
چاہتے ہیں رنگ دیں اپنے لہو سے
یہ در و دیوار
سارا شہر یہ ساری زمیں
اس مشینی دور سے آگے بھی ہیں کچھ منزلیں
اور وہ تنہا اکیلا آدمی
آج بھی جس کو زوال آیا نہیں
تم سے لاکھوں اور بھی تھے
جن کی دھرتی کو سمندر کھا گئے
اور جو پرچھائیوں کے جنگلوں میں
گھر کے بونے ہو گئے
مجھ سے بھی چھوٹے ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.