کہاں چلی اے زندگی
کہاں چلی اے زندگی
ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے
کہیں کہیں سے اب بھی روے فکر دل نشین ہے
ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے
ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سر زمین ہے
ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی سر خوشی
کہاں چلی اے زندگی
ابھی تو اشہب خیال و فکر بے لگام ہے
ابھی ترا اسیر موج میں ہے خوش خرام ہے
ابھی لہو کے رنگ میں فشار کا قیام ہے
لٹی پٹی صدا میں اب بھی حوصلے کا نام ہے
ابھی نظر کی پتلیوں میں چیختی ہے روشنی
کہاں چلی اے زندگی
تو کر سکون سے تباہ حوصلہ فقیر کا
وجود تک مٹا زمیں سے بے نوا فقیر کا
کچھ اس طرح سے دفن کر دے زائچہ فقیر کا
کوئی نہ ڈھونڈ پائے پھر نشان پا فقیر کا
اسے سزا وہ دے کسی کو جو کبھی نہیں ملی
کہاں چلی اے زندگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.