Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آئیڈینٹیٹی کرائسس

سلمان ثروت

آئیڈینٹیٹی کرائسس

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    آسمان و زمیں

    مختلف سمت کی گردشوں کے سبب

    زندگانی کی چکی کے دو پاٹ ہیں

    ان کے مابین پستہ ہوا آدمی

    آدمی آسماں کے مطابق فلک زاد تھا

    اس کا منصب زمینی خرافات سے

    ماورا تھا مگر

    اس نے خود کو خبائث کا مجرم کیا

    اس کا خاکی بدن روح پر فوقیت لے گیا

    اس بنا پر وہ میرے غضب کا سزاوار ہے

    اور زمیں تو بضد ہے اسی بات پر

    آدمی مجھ میں آباد ہے

    میرا ہم راز ہے میرا دم ساز ہے

    آدمی کچھ نہیں ہے فقط خاک ہے

    جب کبھی خاک سے اپنی بنیاد سے

    آدمی نے بغاوت کا سوچا اگر

    آسماں کی طرف جو اٹھائی نظر

    تو مرے قہر نے

    قوت دہر نے

    اس کی سوچوں کی باگیں فقط ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیں

    آدمی آسمان و زمیں کی کشاکش میں پستے ہوئے سوچتا ہے

    کہ میں کون ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے