دلیل کی ہیبت
دن بھر کا تھکا ہوا تھا سورج
پائے جو بچھے ہوئے گگن پر
مخمل کے دبیز سرخ گدے
بس گر کے انہی میں دھنس گیا ہے
نیلی پیلی سنہری پریاں
پچھم کے افق پہ کھینچتی ہیں
کالے اودے دبیز پردے
گدوں پہ غلاف ڈھانپتی ہیں
سائے کہ امڈ رہے ہیں ہر سو
سورج کو مرا ہوا سمجھ کر
جامے میں نہیں سما رہے ہیں
کہتے ہیں خوشی مناؤ یارو
سورج کا ہوا تمام قصہ
اب اپنا زمانہ آ گیا ہے
مبہوت کھڑا ہے سایہ سایہ
چپکے سے فلک پہ چاند آیا
سورج کی دلیل بن کے نکلا
سورج کا وکیل بن کے نکلا
چہرے پہ چمک رہا تھا سورج
ماتھے پہ دمک رہا تھا سورج
یہ دیکھ کے سائے سٹپٹائے
چھجوں کے چھتوں کے نیچے آئے
غاروں میں لپک کے سر چھپایا
پیڑوں کے تنوں سے جا کے چمٹے
دامن میں پہاڑیوں کے سمٹے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.