Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دلیل کی ہیبت

عمیق حنفی

دلیل کی ہیبت

عمیق حنفی

MORE BYعمیق حنفی

    دن بھر کا تھکا ہوا تھا سورج

    پائے جو بچھے ہوئے گگن پر

    مخمل کے دبیز سرخ گدے

    بس گر کے انہی میں دھنس گیا ہے

    نیلی پیلی سنہری پریاں

    پچھم کے افق پہ کھینچتی ہیں

    کالے اودے دبیز پردے

    گدوں پہ غلاف ڈھانپتی ہیں

    سائے کہ امڈ رہے ہیں ہر سو

    سورج کو مرا ہوا سمجھ کر

    جامے میں نہیں سما رہے ہیں

    کہتے ہیں خوشی مناؤ یارو

    سورج کا ہوا تمام قصہ

    اب اپنا زمانہ آ گیا ہے

    مبہوت کھڑا ہے سایہ سایہ

    چپکے سے فلک پہ چاند آیا

    سورج کی دلیل بن کے نکلا

    سورج کا وکیل بن کے نکلا

    چہرے پہ چمک رہا تھا سورج

    ماتھے پہ دمک رہا تھا سورج

    یہ دیکھ کے سائے سٹپٹائے

    چھجوں کے چھتوں کے نیچے آئے

    غاروں میں لپک کے سر چھپایا

    پیڑوں کے تنوں سے جا کے چمٹے

    دامن میں پہاڑیوں کے سمٹے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے