تذبذب
چاندنی مضمحل تھی تا بہ نظر
اور آوارہ چاند ٹھٹھرا ہوا
دور برگد کے پھیلے پیڑوں میں
ڈھانپتا پھر رہا تھا عریانی
سہمی سہمی تھی رات کی دیوی
اور تارے فلک کے دامن پر
بکھرے تھے جیسے خون کے چھینٹے
میرے ماتھے کے دیپ بجھنے لگے
اور احساس کی تڑپتی ہوا
اتنی شدت سے چیخی چلائی
میری آنکھوں کی جادو نگری میں
کھل گئے چند اور دروازے
میں نے دیکھا
زمیں پہ تا بہ نظر
میرے آگے ستارے بکھرے تھے
اور ہنستا ہوا سجیلا چاند
میرے قدموں سے کچھ ذرا آگے
اک اڑن طشتری سی لگتا تھا
جس سے کچھ اجنبی سے سیمیں ہاتھ
اپنی جانب مجھے بلاتے تھے
میں نے اک سرد آہ بھر کے کہا
کیسے آؤں وہاں میں عریاں ہوں
چاند نے مسکرا کے مجھ سے کہا
بے خطر ہو کے آگے بڑھتا آ
چاندنی کی یہ ریشمیں چادر
ڈھانپ لے گی تمام عریانی
ڈگمگا کر میں جوں ہی آگے بڑھا
میری ہاری ہوئی تمنائیں
میرا شانہ جھنجھوڑ کر بولیں
کس طرف جا رہا ہے اے پگلے
تیرے آگے عجیب دریا ہے
جس کے شفاف نیلے پانی میں
عکس ہی عکس ہیں فضاؤں کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.