Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انجان راہیں

محمد اویس ماہی

انجان راہیں

محمد اویس ماہی

MORE BYمحمد اویس ماہی

    کہاں کو لے کے جاتی ہیں ہمیں انجان راہیں یہ

    پتا منزل کا دیتی ہیں یا پیچھے چھوڑ جاتی ہیں

    ہماری آرزوؤں کا یہ ماتھا پھوڑ جاتی ہیں

    انہی انجان راہوں میں کسی انجان چہرے کی

    نگاہوں سے نگاہیں چار مل کے ہو بھی جاتی ہیں

    مگر ان کے بھی ملنے سے کہاں کھلتی ہیں یہ راہیں

    ہماری زندگانی بھی تو اک انجان رستہ ہے

    خبر ہم کو نہیں ہوتی کسی بھی موڑ کی پھر بھی

    بس اک موہوم سی امید پر ہم چل تو پڑتے ہیں

    کہ شاید کوئی مل جائے نظر جس سے ملا لیں ہم

    کچھ اپنی بات کہہ لیں ہم کچھ اس کے بھید پا لیں ہم

    مگر انجان راہوں پر کسی انجان سے مل کر

    سلجھتی کب ہیں یہ گرہیں ہماری زندگانی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے