Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دروازے کے پیچھے

قتیل شفائی

دروازے کے پیچھے

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    کل کی بات ہے

    میں نے بھی اس دروازے پر دستک دے دی

    پہلے تو اک فاقوں مارا کتا بھونکا

    پھر کتے کو ڈانٹ پڑی

    خاموش رہو

    اور دروازے کے بند کواڑوں کے پیچھے اک آنچل مہکا

    خوشبوؤں کی جھیل میں جیسے کسی نے کنکر پھینک دیا ہو

    ہمت کر کے میں کھنکارا جیسے مجھ سے کہا گیا تھا

    کھل گئی کنڈی دروازے کی جیسے میں نے سن رکھا تھا

    بھڑکیلے رنگوں میں لپٹی ایک حسینہ

    پیار سے مجھ کو دیکھ رہی تھی

    اس کے آنچل کی خوشبو

    اور اس کے چہرے کا غازہ

    اور اس کے ہونٹوں کی سرخی

    اور اس کی باہوں کے گجرے

    اور اس کے جسم کی ہر زیبائش پیار سے مجھ کو دیکھ رہی تھی

    میں نے چہرے کے پیچھے جو بھوک چھپا رکھی تھی اس کو چھپ چھپ کر وہ دیکھ رہی تھی

    اتنے میں پھر فاقوں مارا کتا بھونکا

    پھر کتے کو ڈانٹ پڑی

    خاموش رہو

    اب کچھ ہی دیر میں اپنے بھاگ بھی جاگ اٹھیں گے

    اب کچھ دیر میں تیری بھوک بھی مٹ جائے گی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے